ہم چل دیے اور دوست ہمارا نہیں آیا
کشتی کے تعاقب میں کنارہ نہیں آیا
پہنچا بڑے ارمان لیے دشت فلک تک
ہاتھوں میں مگر ایک بھی تارا نہیں آیا
کیا سانحہ گزرا مرے رہ گیر پہ لوگو
کیوں خیر خبر کو وہ دوبارہ نہیں آیا
ہم لوٹ گئے جیسے پلٹتے ہیں پرندے
ہرچند کسی در کا اشارہ نہیں آیا
جب آئے صفر سے تو رہ عشق میں ثروتؔ
وو دشت وو بستی وہ منارہ نہیں آیا
ثروت حسین