ہوا کی باتیں میری سمجھ میں آتی ہیں درختوں کا سکوت مجھ سے کلام کرتا ہے بارش میرے ساتھ ساتھ چلتی ہے اس کے گھر تک ایک سڑک ہے سڑک کے دو رویہ پام کے دو پودھے ہیں ایک ناریل کا درخت اس کے گھر پر جھکا ہوا ہے ہوا کی باتیں میری سمجھ میں آتی ہیں
ثروت حسین