ثروت حسین

شاعر

تعارف شاعری

جل پری

میں اپنے ہونٹھ اس کے بالوں پر رکھ دیتا ہوں
وہ خاموش رہتی ہے
وہ خاموشی سے مجھے دیکھتی ہے
وہ مجھے ایسے دیکھتی ہے جیسے ایک عورت سمندر کو دیکھتی ہے
بہت قریب اور لا تعلق
پلٹتی ہوئی موج اس کے تلووں سے ریت بہا لاتی ہے
وہ اپنے پنجے گاڑ دیتی ہے
وہ ایک شيرنی ہے جو پانی کو دیکھتے رہنا چاہتی ہے
اس کا عکس ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے
وہ دیکھتی ہے کہیں بہت نیچے
فرن کا ہلتا ہوا پودا
مونگے کی چٹان اور ایک جل پری

ثروت حسین