خاک سے چشمۂ صد رنگ ابلتے دیکھا
میں نے اس شوخ کو پوشاک بدلتے دیکھا
آتش رنگ سے دہکی ہوئی شہزادی کو
ہاتھ میں پھول لیے نیند میں چلتے دیکھا
آگ ہی آگ ہے سیارے پہ لیکن ہم نے
شاخ زیتون تجھے پھولتے پھلتے دیکھا
تھی مؤذن کی ندا نیند سے بہتر ہے نماز
میں نے پتھر کو مناجات میں ڈھلتے دیکھا
جانیے کون سی مٹی سے بنے ہیں ثروتؔ
ہم نے عشاق کو دریاؤں پہ چلتے دیکھا
ثروت حسین