خواب اچھے نہیں اس عمر میں گھر کے لوگو
یہی دن رات تو ہوتے ہیں سفر کے لوگو
جامنی رنگ کا شعلہ کوئی لہراتا ہے
ہم تو اس آگ کو دیکھیں گے ٹھہر کے لوگو
یہی مٹی جو کنارے پہ نظر آتی ہے
اور ہو جاتی ہے پانی میں اتر کے لوگو
اپنے ہی شہر کا احوال سنا کرتے ہیں
جیسے قصہ ہوں کسی اور نگر کے لوگو
آج ثروتؔ سے ملاقات ہوئی تھی اپنی
یہاں چرچے ہیں اسی آئنہ گر کے لوگو
ثروت حسین