کتاب سبز و در داستان بند کیے
وہ آنکھ سو گئی خوابوں کو ارجمند کیے
گزر گیا ہے وہ سیلاب آتش امروز
بغیر خیمہ و خاشاک کو گزند کیے
بہت مصر تھے خدایان ثابت و سیار
سو میں نے آئنہ و آسماں پسند کیے
اسی جزیرۂ جائے نماز پر ثروتؔ
زمانہ ہو گیا دست دعا بلند کیے
ثروت حسین
Kitaab sabz o dar daastaan band kiye
Woh aankh so gayi khwabon ko arjumand kiye
Guzar gaya hai woh sailaab-e-aatish imroz
Bagair khema o khaashaak ko gazand kiye
Bahut misr the khudaayaan-e-saabit o sayyaar
So main ne aaina o aasman pasand kiye
Isi jazira-e-jaaye namaz par Sarwatؔ
Zamana ho gaya dast-e-dua buland kiye
ثروت حسین اردو کے جدید اور صاحبِ طرز شاعر تھے جنہوں نے کم عمری میں ہی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ وہ 9 نومبر 1949ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین کا تعلق بدایوں (بھارت) سے تھا جو قیامِ پاکستان کے بعد کراچی منتقل ہوئے۔ ثروت حسین نے ابتدائی تعلیم ملیر کینٹ کے سرکاری اسکول سے حاصل کی، بعد ازاں علامہ اقبال کالج سے ایف۔اے کیا اور جام...
مکمل تعارف پڑھیں