مجھ کو یہ رنج کھائے جاتا ہے
باغ پتے گرائے جاتا ہے
دیکھ رہ گیر اس بیاباں کا
دھوپ کے سائے سائے جاتا ہے
کوئی سمجھاؤ اس درندے کو
آدمی خوں بہائے جاتا ہے
شاعر بے دماغ مٹی پر
بیل بوٹے بنائے جاتا ہے
زرد ہو جائے گی زمیں ثروتؔ
کیوں ستارے گرائے جاتا ہے
ثروت حسین