ثروت حسین

شاعر

تعارف شاعری

نیند کا سونا مری آنکھوں سے پگھلا دیر تک

نیند کا سونا مری آنکھوں سے پگھلا دیر تک
میں گذشتہ رات بھی بے بات جاگا دیر تک
لکھ گیا ہے جانے کیا چہرے پہ لمحوں کا غبار
دیکھتا رہتا ہوں آئینے میں چہرہ دیر تک
اس گلی کے سارے گھر خاموش تھے تاریک تھے
جانے کیوں روشن رہا تھا اک دریچہ دیر تک
چاپ ابھری اور پھر خاموشیوں میں کھو گئی
اک مدھر نغمہ مرے کانوں میں گونجا دیر تک
میں اکیلا تھا سڑک پر دور تک کوئی نہ تھا
وہ نہ جانے کون تھا کس نے پکارا دیر تک

ثروت حسین