search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
ثروت حسین
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
بادل گرجے دیواروں میں بجلی چمکی آئینے پر
اب کس سے کہیں بھول گئے ہیں نگر اپنا
ایسا بھی کوئی مہرباں جو مرے ساتھ چل سکے
رفتہ رفتہ اک ہجوم کہکشاں بنتا گیا
آدمی کو رہ دکھانے کے لئے موجود ہیں
کوئی نشاں سر دیوار و بام اپنا نہیں
یہ رسم انبیا زندہ ہمیں سادات رکھیں گے
آئنہ عکس رخ یار کے آ جانے سے
نقش کچھ ابھارے ہیں فرش خاک پر میں نے
سورج ابھی کہر میں چھپا تھا
اللہ کی زمیں پر موسم کمال آیا
مجھ کو یہ رنج کھائے جاتا ہے
کوئل کوکو کرتی ہے اور پتے رنگ بدلتے ہیں
ہاتھ ہمارے بھی شامل تھے پربت کاٹنے والوں میں
خاک سے چشمۂ صد رنگ ابلتے دیکھا
ان اونچی سرخ فصیلوں کا دروازہ کس پر وا ہو گا
یہ جو اک پرچھائیں سی ہے پیراہن میں کہیں
تھامی ہوئی ہے کاہکشاں اپنے ہاتھ سے
رکھ لیتے ہیں دل بیچ زباں پر نہیں لاتے
اسی زمین پر ایک ختن ہے جس میں اک آہو رہتا ہے
آنکھ تاریک مری جسم ہے روشن میرا
عورت خوشبو اور نمازیں اب ہے یہی معمول مرا
اک گیت میرے پاس ہوا سے پرانا ہے
راہ سے نا آشنا بھی راہبر ہونے لگے
میری کشتی ٹوٹ رھی ہے سر سے اونچا پانی ہے
مگر اس سے آگے جو تاریک صحرا ہے وہ کون سا ہے
راہ کے پیڑ بھی فریاد کیا کرتے ہیں
اپنے ہونے پے پیار آتا ہے
آگ اور طرح کی ہے دھواں اور طرح کا
اور دیوار چمن سے میں کہاں تک جاؤں گا
انساں کی خوشی کا استعارہ
نیند کا سونا مری آنکھوں سے پگھلا دیر تک
نخل امید پہ ہم صبر کا پھل دیکھیں گے
چاند آفاق شجر دیکھنے والے کے لئے
آہٹ سی کانوں میں گونجے اور کہیں کھو جائے
وہ صبح مناجات کب آئے گی
خواب اچھے نہیں اس عمر میں گھر کے لوگو
وہ سر بام کیوں نہیں آتا
باغ تھا مجھ میں اور فوارہ پھول میں تھا
بدن کا بوجھ لیے روح کا عذاب لیے
گیتوں سے جب بھر جاتا ہوں گانے لگتا ہوں
آنگن تمام نیم کے پتوں سے بھر گیا
شہر زاد ہیں گلیوں کی پہچان بھی رکھتے ہیں
ہم چل دیے اور دوست ہمارا نہیں آیا
آج کھڑکی سے جو باہر دیکھا
تیز چلنے لگی ہوا مجھ میں
سحر ہوگی تارے چلے جائیں گے
منہدم ہوتی ہوئی آبادیوں میں فرصت یک خواب ہوتے
پہنائے بر و بحر کے محشر سے نکل کر
گردش سیارگاں خوب ہے اپنی جگہ
کتاب سبز و در داستان بند کیے
اسی کنارۂ حیرت سرا کو جاتا ہوں
گدائے شہر آئندہ تہی کاسہ ملے گا
یک بیک منظر ہستی کا نیا ہو جانا
ہوا و ابر کو آسودۂ مفہوم کر دیکھوں
وہ میرے سامنے ملبوس کیا بدلنے لگا
فرات فاصلہ سے دجلۂ دعا سے ادھر
وہیں پر مرا سیم تن بھی تو ہے
آئے ہیں رنگ بحالی پر
سفینہ رکھتا ہوں درکار اک سمندر ہے
رات باغیچے پہ تھی اور روشنی پتھر میں تھی
تھامی ہوئی ہے کاہکشاں اپنے ہاتھ سے
آنکھوں میں سوغات سمیٹے اپنے گھر آتے ہیں
جب شام ہوئی میں نے قدم گھر سے نکالا
اک روز میں بھی باغ عدن کو نکل گیا
پھر وہ برسات دھیان میں آئی
لہر لہر آوارگیوں کے ساتھ رہا
دیکھا جو اس طرف تو بدن پر نظر گئی
یہ ہونٹ ترے ریشم ایسے
پورے چاند کی سج دھج ہے شہزادوں والی
جنگل میں کبھی جو گھر بناؤں
کبھی تیغ تیز سپرد کی کبھی تحفۂ گل تر دیا
میں جو گزرا سلام کرنے لگا
قندیل مہ و مہر کا افلاک پہ ہونا
دشت لے جائے کہ گھر لے جائے
پتھروں میں آئنا موجود ہے
صبح کے شور میں ناموں کی فراوانی میں
کس پر پوشیدہ اور کس پہ عیاں ہونا تھا
یہ جو پھوٹ بہا ہے دریا پھر نہیں ہوگا
گھر سے نکلا تو ملاقات ہوئی پانی سے
قسم اس آگ اور پانی کی
رات ڈھلنے کے بعد کیا ہوگا
جانے اس نے کیا دیکھا شہر کے منارے میں
بھر جائیں گے جب زخم تو آؤں گا دوبارا
اچھا سا کوئی سپنا دیکھو اور مجھے دیکھو
ملاح کا دل
بیت
دوپہر کی سلطنت
چلنا
گھوڑے کا قصیدہ
یہ گیت تمہارا گھر ہے
دن نکلتا ہے
وائی
وائی
سادھ بیلہ
ہنس اور جھیل
خوبرو چلتے اگر تم
آدھے سیارے پر
شاعری کی طرف
بارشوں میں
شاعری روٹھ گئی ہے مجھ سے
خوبرو چلتے اگر تم
جل پری
نیلی لکیر
دن نکلے تو میں بھی دیکھوں
گھوڑے کی موت
ہوا
میں ایک بچے کی طرح ہوں
ایک پل بنایا جا رہا ہے
میں تمہیں کیا دے سکتا ہوں
جہالت کا علم
دن اور جھاگ
سخاوت کا فرشتہ
نسیان کا فرشتہ
شادمانی کا فرشتہ
پانی کا ہاتھ
دشوار دن کے کنارے
پیپر ویٹ
یہاں مضافات میں
مہران، مجھے دو
نظم
ستارے کا گمان
اتنے بہت سے رنگ
آشنائی کا فرشتہ
بہتا ہوا پانی
صبح ہوتے ہی
لفظوں کے درمیان
نیند کا فرشتہ
دس سے اوپر
وصال
چاہت
ایک نظم کہیں سے بھی شروع ہو سکتی ہے
درخت میرے دوست
ایک پل بنایا جا رہا ہے
میں تمہیں یاد کر رہا تھا
ملاح کا دل
بیت
دوپہر کی سلطنت
چلنا
گھوڑے کا قصیدہ
یہ گیت تمہارا گھر ہے
دن نکلتا ہے
وائی
وائی
سادھ بیلہ
ہنس اور جھیل
خوبرو چلتے اگر تم
آدھے سیارے پر
شاعری کی طرف
بارشوں میں
شاعری روٹھ گئی ہے مجھ سے
خوبرو چلتے اگر تم
جل پری
نیلی لکیر
دن نکلے تو میں بھی دیکھوں
گھوڑے کی موت
ہوا
میں ایک بچے کی طرح ہوں
ایک پل بنایا جا رہا ہے
میں تمہیں کیا دے سکتا ہوں
جہالت کا علم
دن اور جھاگ
سخاوت کا فرشتہ
نسیان کا فرشتہ
شادمانی کا فرشتہ
پانی کا ہاتھ
دشوار دن کے کنارے
پیپر ویٹ
یہاں مضافات میں
مہران، مجھے دو
نظم
ستارے کا گمان
اتنے بہت سے رنگ
آشنائی کا فرشتہ
بہتا ہوا پانی
صبح ہوتے ہی
لفظوں کے درمیان
نیند کا فرشتہ
دس سے اوپر
وصال
چاہت
ایک نظم کہیں سے بھی شروع ہو سکتی ہے
درخت میرے دوست
ایک پل بنایا جا رہا ہے
میں تمہیں یاد کر رہا تھا