کلامِ شاعر
- 01 بادل گرجے دیواروں میں بجلی چمکی آئینے پر
- 02 اب کس سے کہیں بھول گئے ہیں نگر اپنا
- 03 ایسا بھی کوئی مہرباں جو مرے ساتھ چل سکے
- 04 رفتہ رفتہ اک ہجوم کہکشاں بنتا گیا
- 05 آدمی کو رہ دکھانے کے لئے موجود ہیں
- 06 کوئی نشاں سر دیوار و بام اپنا نہیں
- 07 یہ رسم انبیا زندہ ہمیں سادات رکھیں گے
- 08 آئنہ عکس رخ یار کے آ جانے سے
- 09 نقش کچھ ابھارے ہیں فرش خاک پر میں نے
- 10 سورج ابھی کہر میں چھپا تھا
- 11 اللہ کی زمیں پر موسم کمال آیا
- 12 مجھ کو یہ رنج کھائے جاتا ہے
- 13 کوئل کوکو کرتی ہے اور پتے رنگ بدلتے ہیں
- 14 ہاتھ ہمارے بھی شامل تھے پربت کاٹنے والوں میں
- 15 خاک سے چشمۂ صد رنگ ابلتے دیکھا
- 16 ان اونچی سرخ فصیلوں کا دروازہ کس پر وا ہو گا
- 17 یہ جو اک پرچھائیں سی ہے پیراہن میں کہیں
- 18 تھامی ہوئی ہے کاہکشاں اپنے ہاتھ سے
- 19 رکھ لیتے ہیں دل بیچ زباں پر نہیں لاتے
- 20 اسی زمین پر ایک ختن ہے جس میں اک آہو رہتا ہے
- 21 آنکھ تاریک مری جسم ہے روشن میرا
- 22 عورت خوشبو اور نمازیں اب ہے یہی معمول مرا
- 23 اک گیت میرے پاس ہوا سے پرانا ہے
- 24 راہ سے نا آشنا بھی راہبر ہونے لگے
- 25 میری کشتی ٹوٹ رھی ہے سر سے اونچا پانی ہے
- 26 مگر اس سے آگے جو تاریک صحرا ہے وہ کون سا ہے
- 27 راہ کے پیڑ بھی فریاد کیا کرتے ہیں
- 28 اپنے ہونے پے پیار آتا ہے
- 29 آگ اور طرح کی ہے دھواں اور طرح کا
- 30 اور دیوار چمن سے میں کہاں تک جاؤں گا
- 31 انساں کی خوشی کا استعارہ
- 32 نیند کا سونا مری آنکھوں سے پگھلا دیر تک
- 33 نخل امید پہ ہم صبر کا پھل دیکھیں گے
- 34 چاند آفاق شجر دیکھنے والے کے لئے
- 35 آہٹ سی کانوں میں گونجے اور کہیں کھو جائے
- 36 وہ صبح مناجات کب آئے گی
- 37 خواب اچھے نہیں اس عمر میں گھر کے لوگو
- 38 وہ سر بام کیوں نہیں آتا
- 39 باغ تھا مجھ میں اور فوارہ پھول میں تھا
- 40 بدن کا بوجھ لیے روح کا عذاب لیے
- 41 گیتوں سے جب بھر جاتا ہوں گانے لگتا ہوں
- 42 آنگن تمام نیم کے پتوں سے بھر گیا
- 43 شہر زاد ہیں گلیوں کی پہچان بھی رکھتے ہیں
- 44 ہم چل دیے اور دوست ہمارا نہیں آیا
- 45 آج کھڑکی سے جو باہر دیکھا
- 46 تیز چلنے لگی ہوا مجھ میں
- 47 سحر ہوگی تارے چلے جائیں گے
- 48 منہدم ہوتی ہوئی آبادیوں میں فرصت یک خواب ہوتے
- 49 پہنائے بر و بحر کے محشر سے نکل کر
- 50 گردش سیارگاں خوب ہے اپنی جگہ
- 51 کتاب سبز و در داستان بند کیے
- 52 اسی کنارۂ حیرت سرا کو جاتا ہوں
- 53 گدائے شہر آئندہ تہی کاسہ ملے گا
- 54 یک بیک منظر ہستی کا نیا ہو جانا
- 55 ہوا و ابر کو آسودۂ مفہوم کر دیکھوں
- 56 وہ میرے سامنے ملبوس کیا بدلنے لگا
- 57 فرات فاصلہ سے دجلۂ دعا سے ادھر
- 58 وہیں پر مرا سیم تن بھی تو ہے
- 59 آئے ہیں رنگ بحالی پر
- 60 سفینہ رکھتا ہوں درکار اک سمندر ہے
- 61 رات باغیچے پہ تھی اور روشنی پتھر میں تھی
- 62 تھامی ہوئی ہے کاہکشاں اپنے ہاتھ سے
- 63 آنکھوں میں سوغات سمیٹے اپنے گھر آتے ہیں
- 64 جب شام ہوئی میں نے قدم گھر سے نکالا
- 65 اک روز میں بھی باغ عدن کو نکل گیا
- 66 پھر وہ برسات دھیان میں آئی
- 67 لہر لہر آوارگیوں کے ساتھ رہا
- 68 دیکھا جو اس طرف تو بدن پر نظر گئی
- 69 یہ ہونٹ ترے ریشم ایسے
- 70 پورے چاند کی سج دھج ہے شہزادوں والی
- 71 جنگل میں کبھی جو گھر بناؤں
- 72 کبھی تیغ تیز سپرد کی کبھی تحفۂ گل تر دیا
- 73 میں جو گزرا سلام کرنے لگا
- 74 قندیل مہ و مہر کا افلاک پہ ہونا
- 75 دشت لے جائے کہ گھر لے جائے
- 76 پتھروں میں آئنا موجود ہے
- 77 صبح کے شور میں ناموں کی فراوانی میں
- 78 کس پر پوشیدہ اور کس پہ عیاں ہونا تھا
- 79 یہ جو پھوٹ بہا ہے دریا پھر نہیں ہوگا
- 80 گھر سے نکلا تو ملاقات ہوئی پانی سے
- 81 قسم اس آگ اور پانی کی
- 82 رات ڈھلنے کے بعد کیا ہوگا
- 83 جانے اس نے کیا دیکھا شہر کے منارے میں
- 84 بھر جائیں گے جب زخم تو آؤں گا دوبارا
- 85 اچھا سا کوئی سپنا دیکھو اور مجھے دیکھو
- 86 ملاح کا دل
- 87 بیت
- 88 دوپہر کی سلطنت
- 89 چلنا
- 90 گھوڑے کا قصیدہ
- 91 یہ گیت تمہارا گھر ہے
- 92 دن نکلتا ہے
- 93 وائی
- 94 وائی
- 95 سادھ بیلہ
- 96 ہنس اور جھیل
- 97 خوبرو چلتے اگر تم
- 98 آدھے سیارے پر
- 99 شاعری کی طرف
- 100 بارشوں میں
- 101 شاعری روٹھ گئی ہے مجھ سے
- 102 خوبرو چلتے اگر تم
- 103 جل پری
- 104 نیلی لکیر
- 105 دن نکلے تو میں بھی دیکھوں
- 106 گھوڑے کی موت
- 107 ہوا
- 108 میں ایک بچے کی طرح ہوں
- 109 ایک پل بنایا جا رہا ہے
- 110 میں تمہیں کیا دے سکتا ہوں
- 111 جہالت کا علم
- 112 دن اور جھاگ
- 113 سخاوت کا فرشتہ
- 114 نسیان کا فرشتہ
- 115 شادمانی کا فرشتہ
- 116 پانی کا ہاتھ
- 117 دشوار دن کے کنارے
- 118 پیپر ویٹ
- 119 یہاں مضافات میں
- 120 مہران، مجھے دو
- 121 نظم
- 122 ستارے کا گمان
- 123 اتنے بہت سے رنگ
- 124 آشنائی کا فرشتہ
- 125 بہتا ہوا پانی
- 126 صبح ہوتے ہی
- 127 لفظوں کے درمیان
- 128 نیند کا فرشتہ
- 129 دس سے اوپر
- 130 وصال
- 131 چاہت
- 132 ایک نظم کہیں سے بھی شروع ہو سکتی ہے
- 133 درخت میرے دوست
- 134 ایک پل بنایا جا رہا ہے
- 135 میں تمہیں یاد کر رہا تھا
- 136 ملاح کا دل
- 137 بیت
- 138 دوپہر کی سلطنت
- 139 چلنا
- 140 گھوڑے کا قصیدہ
- 141 یہ گیت تمہارا گھر ہے
- 142 دن نکلتا ہے
- 143 وائی
- 144 وائی
- 145 سادھ بیلہ
- 146 ہنس اور جھیل
- 147 خوبرو چلتے اگر تم
- 148 آدھے سیارے پر
- 149 شاعری کی طرف
- 150 بارشوں میں
- 151 شاعری روٹھ گئی ہے مجھ سے
- 152 خوبرو چلتے اگر تم
- 153 جل پری
- 154 نیلی لکیر
- 155 دن نکلے تو میں بھی دیکھوں
- 156 گھوڑے کی موت
- 157 ہوا
- 158 میں ایک بچے کی طرح ہوں
- 159 ایک پل بنایا جا رہا ہے
- 160 میں تمہیں کیا دے سکتا ہوں
- 161 جہالت کا علم
- 162 دن اور جھاگ
- 163 سخاوت کا فرشتہ
- 164 نسیان کا فرشتہ
- 165 شادمانی کا فرشتہ
- 166 پانی کا ہاتھ
- 167 دشوار دن کے کنارے
- 168 پیپر ویٹ
- 169 یہاں مضافات میں
- 170 مہران، مجھے دو
- 171 نظم
- 172 ستارے کا گمان
- 173 اتنے بہت سے رنگ
- 174 آشنائی کا فرشتہ
- 175 بہتا ہوا پانی
- 176 صبح ہوتے ہی
- 177 لفظوں کے درمیان
- 178 نیند کا فرشتہ
- 179 دس سے اوپر
- 180 وصال
- 181 چاہت
- 182 ایک نظم کہیں سے بھی شروع ہو سکتی ہے
- 183 درخت میرے دوست
- 184 ایک پل بنایا جا رہا ہے
- 185 میں تمہیں یاد کر رہا تھا