ثروت حسین

شاعر

تعارف شاعری

رفتہ رفتہ اک ہجوم کہکشاں بنتا گیا

رفتہ رفتہ اک ہجوم کہکشاں بنتا گیا
آسماں پر اور ہی اک آسماں بنتا گیا
چھوٹے چھوٹے لوگ تھے اور چھوٹی چھوٹی خواہشیں
سو میں ان کے درمیاں اک داستاں بنتا گیا
میری سیرابی کے قصے شہر کی گلیوں میں تھے
میری محرومی کا سایہ جاوداں بنتا گیا
پھول اتنے تھے کہ میرے ہاتھ چھوٹے پڑ گئے
کاروبار عشق کار گلستاں بنتا گیا
آگ کے نزدیک آ جانا بہت آسان تھا
پھر مرا قرب مسلسل امتحاں بنتا گیا

ثروت حسین