شاعری روٹھ گئی ہے مجھ سے
آسماں چپ ہے زمیں بات نہیں کرتی ہے
بہتا پانی کسی امید پر آمادہ نہیں
خوش نہیں آتا کوئی لفظ کوئی دروازہ
کیسے بچھڑے ہوئے لوگوں کی خبر لاتے ہیں
کس طرح روٹھے ہوئے شخص کو گھر لاتے ہیں
شہد کی مکھیاں پھولوں کی طرف جاتی ہیں
ایک فوارے کے نزدیک شجر گنتا ہوں
ثروت حسین