شہر زاد ہیں گلیوں کی پہچان بھی رکھتے ہیں
اور بھٹکتے رہنے پر ایمان بھی رکھتے ہیں
رستہ رستہ اگنے والے یہ ہم شکل درخت
دھوپ میں ہیں اور ہم جیسوں کا دھیان بھی رکھتے ہیں
دور افتادہ ویرانوں پر لہراتے بادل
اک دہلیز سے کچھ عہد و پیمان بھی رکھتے ہیں
اندیشوں میں جھلسنے والے دلوں کے یہ دالان
خوابوں اور خیالوں کو مہمان بھی رکھتے ہیں
رات کی رات چمکنے والے آسمان کے رنگ
دیواروں کو صدیوں تک حیران بھی رکھتے ہیں
ثروت حسین