تھامی ہوئی ہے کاہکشاں اپنے ہاتھ سے
تعمیر کر رہا ہوں مکاں اپنے ہاتھ سے
آیا ہوں وہ زمین و شجر ڈھونڈتا ہوا
کھینچی تھی اک لکیر جہاں اپنے ہاتھ سے
حسن بہار مجھ کو مکمل نہیں لگا
میں نے تراش لی ہے خزاں اپنے ہاتھ سے
آئینے کا حضور سمندر لگا مجھے
کاٹا ہے میں نے سیل گراں اپنے ہاتھ سے
ثروتؔ ہدف بہت ہیں جوانان شہر میں
رکھو ابھی نہ تیر و کماں اپنے ہاتھ سے
Thaami hui hai kaahkashaan apne haath se
Taameer kar raha hoon makaan apne haath se
Aaya hoon woh zameen-o-shajar dhoondhta hua
Kheenchhi thi ek lakeer jahan apne haath se
Husn-e-bahaar mujh ko mukammal nahin laga
Main ne taraash li hai khizaan apne haath se
Aaine ka huzoor samundar laga mujhe
Kaata hai main ne sail-e-giraan apne haath se
Sarwat! Hadaf bahut hain jawanaan-e-shehr mein
Rakho abhi na teer-o-kamaan apne haath se
ثروت حسین اردو کے جدید اور صاحبِ طرز شاعر تھے جنہوں نے کم عمری میں ہی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ وہ 9 نومبر 1949ء کو کراچی میں پیدا ہوئ...
مکمل تعارف پڑھیں