تیز چلنے لگی ہوا مجھ میں
کوئی پتے گرا رہا مجھ میں
اے مرے اندروں بتا کچھ تو
کیا خداوند ہے چھپا مجھ میں
میں دھنک اوڑھ کر نکلتا ہوں
پھول ہے ایک خوش نما مجھ میں
دوستو اب نہیں رہا باقی
حوصلہ امتحان کا مجھ میں
یہ طلوع و غروب کے منظر
ابتدا مجھ میں انتہا مجھ میں
ثروت حسین