خوشبو کی آواز سنی غنچہ لب کے کھلتے ہی پانی پر کچھ نقش بنے پرتو شاخ کے ہلتے ہی ساری باتیں بھول گئے اس سے آنکھیں ملتے ہی
ثروت حسین