یہ جو پھوٹ بہا ہے دریا پھر نہیں ہوگا
روئے زمیں پر منظر ایسا پھر نہیں ہوگا
زرد گلاب اور آئینوں کو چاہنے والی
ایسی دھوپ اور ایسا سویرا پھر نہیں ہوگا
گھائل پنچھی تیری کنج میں آن گرا ہے
اس پنچھی کا دوسرا پھیرا پھر نہیں ہوگا
میں نے خود کو جمع کیا پچیس برس میں
یہ سامان تو مجھ سے یکجا پھر نہیں ہوگا
شہزادی ترے ماتھے پر یہ زخم رہے گا
لیکن اس کو چومنے والا پھر نہیں ہوگا
ثروتؔ تم اپنے لوگوں سے یوں ملتے ہو
جیسے ان لوگوں سے ملنا پھر نہیں ہوگا
Yeh jo phoot baha hai darya phir nahin hoga
Rooy-e zameen par manzar aisa phir nahin hoga
Zard gulab aur aainon ko chahne wali
Aisi dhoop aur aisa savera phir nahin hoga
Ghayal panchhi teri kunj mein aan gira hai
Us panchhi ka doosra phera phir nahin hoga
Main ne khud ko jama kiya pachchees baras mein
Yeh saamaan to mujh se yakja phir nahin hoga
Shehzadi tere mathe par yeh zakhm rahega
Lekin us ko choomne wala phir nahin hoga
Sarwat tum apne logon se yoon milte ho
Jaise in logon se milna phir nahin hoga
ثروت حسین اردو کے جدید اور صاحبِ طرز شاعر تھے جنہوں نے کم عمری میں ہی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ وہ 9 نومبر 1949ء کو کراچی میں پیدا ہوئ...
مکمل تعارف پڑھیں