یہ رسم انبیا زندہ ہمیں سادات رکھیں گے
جہاں پر آگ دیکھیں گے وہیں پر ہات رکھیں گے
زمیں ہم سے تری بے رونقی دیکھی نہیں جاتی
کہیں دریا بہائیں گے کہیں باغات رکھیں گے
نہیں ہے کربلا سے واپسی کا راستہ کوئی
جہاں بھی جائیں گے شہزادیوں کو ساتھ رکھیں گے
یہ صبحیں اور شامیں کتنی بے چہرہ سی ہیں ثروتؔ
سجا کر ان دریچوں میں نئے دن رات رکھیں گے
Yeh rasm-e-anbiya zinda hamein saadaat rakhenge
Jahan par aag dekhenge waheen par haath rakhenge
Zameen hum se teri be-raunaqi dekhi nahin jaati
Kahin darya bahaenge kahin baaghaat rakhenge
Nahin hai Karbala se waapsi ka rasta koi
Jahan bhi jaayenge shehzadiyon ko saath rakhenge
Yeh subhein aur shaamein kitni be-chehra si hain Sarwat
Saja kar in dareechon mein naye din raat rakhenge
ثروت حسین اردو کے جدید اور صاحبِ طرز شاعر تھے جنہوں نے کم عمری میں ہی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ وہ 9 نومبر 1949ء کو کراچی میں پیدا ہوئ...
مکمل تعارف پڑھیں