سیماب اکبرآبادی اردو ادب کے اُن ہمہ جہت اور عہدساز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے شاعری، تنقید، ترجمہ اور ادارت ہر میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کا اصل نام عاشق حسین صدیقی تھا اور وہ 5 جون 1880ء کو آگرہ میں ایک علمی و ادبی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مولانا محمد حسین صدیقی خود بھی شاعر تھے، اسی نسبت سے سیماب کو کم عمری ہی میں علم و ادب کا ذوق نصیب ہوا۔ انہوں نے عربی و فارسی میں مہارت حاصل کی اور شاعری میں ڈاغ دہلوی کے سلسلۂ تلمذ سے وابستہ ہو کر فنی پختگی حاصل کی۔ تخلص “سیماب” اختیار کیا اور جلد ہی اردو کی ادبی دنیا میں اپنی منفرد شناخت قائم کر لی۔
سیماب اکبرآبادی کی ادبی زندگی نہایت وسیع اور متنوع ہے۔ وہ غزل، نظم، رباعی، مثنوی، نثر اور تنقید سبھی اصناف میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں پچھتر سے زائد کتابیں تصنیف کیں جن میں بائیس شعری مجموعے شامل ہیں۔ ان کے نمایاں مجموعوں میں نیستان، الہامِ منظوم، کارِ امروز اور سدرۃ المنتہیٰ شامل ہیں، جب کہ ان کے انتقال کے بعد بھی ان کے کئی مجموعے شائع ہوئے۔ سیماب نے متعدد ادبی رسائل کی ادارت و اشاعت کی اور اردو ادب کی فکری و فنی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے شاگردوں کی تعداد تین سو سے زائد بتائی جاتی ہے، جن میں بعد کے کئی ممتاز شعرا شامل ہیں، جو ان کی استادانہ عظمت کا ثبوت ہے۔
تقسیمِ ہند کے بعد سیماب اکبرآبادی 1948ء میں پاکستان آ گئے اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا، جہاں وہ اپنی وفات تک علمی و ادبی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ 31 جنوری 1951ء کو کراچی ہی میں ان کا انتقال ہوا۔ سیماب کا اسلوب روایت اور جدت کا حسین امتزاج ہے؛ ان کے کلام میں فکری گہرائی، زبان کی شستگی اور فنی وقار نمایاں نظر آتا ہے۔ اردو ادب کی تاریخ میں وہ نہ صرف ایک بڑے شاعر بلکہ ایک عظیم استاد، محقق اور ادبی رہنما کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔