search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
سیماب اکبر آبادی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
شام کی دعا
وسعتیں محدود ہیں ادراک انساں کے لئے
وہ جب رنگ پریشانی کو خلوت گیر دیکھیں گے
میری ہولی
جگنو اور بچہ
برسات
بلبل اور گلاب
وہ تنہائی ہو یا محفل ہو تسکیں دل کی مشکل ہے
مزدور
زندان کائنات میں محصور کر دیا
آؤ پھر گرمی دیار عشق میں پیدا کریں
جنوں میں کوئی آنسو پونچھنے والا نہیں ملتا (ردیف .. و)
جو میرے تنگنائے دل میں تجھ کو جلوہ گر دیکھا
تقدیر میں اضافۂ سوز وفا ہوا
رسماً ہی ان کو نالۂ دل کی خبر تو ہو
حد ہو کوئی تو صبر ترے ہجر پر کریں
دل تیرے تغافل سے خبردار نہ ہو جائے
بڑی دلچسپیوں سے صبح شام زندگی ہوگی
خود اٹھ کے ہاتھ میرے گریباں میں آ گئے
حسن کے دل میں جگہ پاتے ہی دیوانہ بنے
نہ وہ فریاد کا مطلب نہ منشائے فغاں سمجھے
جلوہ گاہ دل میں مرتے ہی اندھیرا ہو گیا
عزم فریاد! انہیں اے دل ناشاد نہیں
جہان رنگ و بو میں مستقل تخلیق مستی ہے
ادراک خود آشنا نہیں ہے
مرتب ہو کے اک محشر غبار دل سے نکلے گا
چھپاتا ہوں مگر چھپتا نہیں درد نہاں پھر بھی
ہم ہیں سر تا بہ پا تمنا (ردیف .. ٰ)
ناحق شکایت غم دنیا کرے کوئی
بدن سے روح رخصت ہو رہی ہے
کمال علم و تحقیق مکمل کا یہ حاصل ہے
جاگ اور دیکھ ذرا عالم ویراں میرا
ہستی کو مری مستئ پیمانہ بنا دے
بقید وقت یہ مژدہ سنا رہا ہے کوئی
افسوس گزر گئی جوانی
آ کہ ہستی بے لب و بے گوش ہے تیرے بغیر
شام فرقت انتہائے گردش ایام ہے
یہ دور ترقی ہے رفعت کا زمانہ ہے
عشق خود مائل حجاب ہے آج
شکریہ ہستی کا! لیکن تم نے یہ کیا کر دیا
میری رفعت پر جو حیراں ہے تو حیرانی نہیں
ضبط سے نا آشنا ہم صبر سے بیگانہ ہم
کھو کر تری گلی میں دل بے خبر کو میں
چمک جگنو کی برق بے اماں معلوم ہوتی ہے
بقدر شوق اقرار وفا کیا
جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیں
جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیں
اجازت دے کہ اپنی داستان غم بیاں کر لیں
جو سالک ہے تو اپنے نفس کا عرفان پیدا کر
سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزری
آنکھ سے ٹپکا جو آنسو وہ ستارا ہو گیا
آ اپنے دل میں میری تمنا لیے ہوئے
محفل عشق میں جب نام ترا لیتے ہیں
یہ کس نے شاخ گل لا کر قریب آشیاں رکھ دی
دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میں
غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا مجھے
نسیم صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگی
شاید جگہ نصیب ہو اس گل کے ہار میں
اب کیا بتاؤں میں ترے ملنے سے کیا ملا