کلامِ شاعر
- 01 شام کی دعا
- 02 وسعتیں محدود ہیں ادراک انساں کے لئے
- 03 وہ جب رنگ پریشانی کو خلوت گیر دیکھیں گے
- 04 میری ہولی
- 05 جگنو اور بچہ
- 06 برسات
- 07 بلبل اور گلاب
- 08 وہ تنہائی ہو یا محفل ہو تسکیں دل کی مشکل ہے
- 09 مزدور
- 10 زندان کائنات میں محصور کر دیا
- 11 آؤ پھر گرمی دیار عشق میں پیدا کریں
- 12 جنوں میں کوئی آنسو پونچھنے والا نہیں ملتا (ردیف .. و)
- 13 جو میرے تنگنائے دل میں تجھ کو جلوہ گر دیکھا
- 14 تقدیر میں اضافۂ سوز وفا ہوا
- 15 رسماً ہی ان کو نالۂ دل کی خبر تو ہو
- 16 حد ہو کوئی تو صبر ترے ہجر پر کریں
- 17 دل تیرے تغافل سے خبردار نہ ہو جائے
- 18 بڑی دلچسپیوں سے صبح شام زندگی ہوگی
- 19 خود اٹھ کے ہاتھ میرے گریباں میں آ گئے
- 20 حسن کے دل میں جگہ پاتے ہی دیوانہ بنے
- 21 نہ وہ فریاد کا مطلب نہ منشائے فغاں سمجھے
- 22 جلوہ گاہ دل میں مرتے ہی اندھیرا ہو گیا
- 23 عزم فریاد! انہیں اے دل ناشاد نہیں
- 24 جہان رنگ و بو میں مستقل تخلیق مستی ہے
- 25 ادراک خود آشنا نہیں ہے
- 26 مرتب ہو کے اک محشر غبار دل سے نکلے گا
- 27 چھپاتا ہوں مگر چھپتا نہیں درد نہاں پھر بھی
- 28 ہم ہیں سر تا بہ پا تمنا (ردیف .. ٰ)
- 29 ناحق شکایت غم دنیا کرے کوئی
- 30 بدن سے روح رخصت ہو رہی ہے
- 31 کمال علم و تحقیق مکمل کا یہ حاصل ہے
- 32 جاگ اور دیکھ ذرا عالم ویراں میرا
- 33 ہستی کو مری مستئ پیمانہ بنا دے
- 34 بقید وقت یہ مژدہ سنا رہا ہے کوئی
- 35 افسوس گزر گئی جوانی
- 36 آ کہ ہستی بے لب و بے گوش ہے تیرے بغیر
- 37 شام فرقت انتہائے گردش ایام ہے
- 38 یہ دور ترقی ہے رفعت کا زمانہ ہے
- 39 عشق خود مائل حجاب ہے آج
- 40 شکریہ ہستی کا! لیکن تم نے یہ کیا کر دیا
- 41 میری رفعت پر جو حیراں ہے تو حیرانی نہیں
- 42 ضبط سے نا آشنا ہم صبر سے بیگانہ ہم
- 43 کھو کر تری گلی میں دل بے خبر کو میں
- 44 چمک جگنو کی برق بے اماں معلوم ہوتی ہے
- 45 بقدر شوق اقرار وفا کیا
- 46 جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیں
- 47 جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیں
- 48 اجازت دے کہ اپنی داستان غم بیاں کر لیں
- 49 جو سالک ہے تو اپنے نفس کا عرفان پیدا کر
- 50 سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزری
- 51 آنکھ سے ٹپکا جو آنسو وہ ستارا ہو گیا
- 52 آ اپنے دل میں میری تمنا لیے ہوئے
- 53 محفل عشق میں جب نام ترا لیتے ہیں
- 54 یہ کس نے شاخ گل لا کر قریب آشیاں رکھ دی
- 55 دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میں
- 56 غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا مجھے
- 57 نسیم صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگی
- 58 شاید جگہ نصیب ہو اس گل کے ہار میں
- 59 اب کیا بتاؤں میں ترے ملنے سے کیا ملا