شیخ ابراہیم ذوق

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ اردو کے اُن ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے دہلی کے آخری مغل عہد میں شاعری کو دربار سے عوام تک مؤثر انداز میں پہنچایا۔ ان کی پیدائش اٹھارویں صدی کے اواخر میں دہلی میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے حافظ غلام رسول شوق اور بعد ازاں شاہ نصیر دہلوی جیسے نامور اساتذہ سے شاعری کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ ذوقؔ نے کم عمری ہی میں اپنی فطری ذہانت، زبان پر قدرت اور محاوراتی سلاست کے باعث اہلِ ادب کی توجہ حاصل کر لی، جس نے آگے چل کر انہیں اپنے عہد کا نمایاں شاعر بنا دیا۔

ذوقؔ کا اصل مقام مغل دربار میں اس وقت مستحکم ہوا جب وہ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے استادِ سخن مقرر ہوئے اور بعد میں “ملکُ‌الشعرا” کے منصب پر فائز کیے گئے۔ درباری شاعری میں ان کی مہارت، خاص طور پر قصیدہ نگاری، بے مثال مانی جاتی ہے۔ انہیں سودا کے بعد اردو کا سب سے بڑا قصیدہ گو شاعر سمجھا جاتا ہے۔ ان کے قصائد میں زبان کی چستی، لفظی شان، محاورے کی صحت اور عروض پر کامل گرفت نمایاں ہے۔ اسی دور میں مرزا غالب جیسے عظیم شاعر سے ان کی ادبی رقابت بھی مشہور رہی، تاہم اپنے عہد میں ذوقؔ کو عوامی اور درباری مقبولیت حاصل تھی۔

شیخ ابراہیم ذوقؔ کی شاعری سادگی، روانی اور زبان کی فطری خوبصورتی کی نمائندہ ہے۔ اگرچہ ان کی غزلیں بھی اہم ہیں، مگر قصیدہ نگاری نے انہیں دوام بخشا۔ ۱۶ نومبر ۱۸۵۴ء کو دہلی میں ان کا انتقال ہوا، اور بعد کے ہنگامہ خیز حالات میں ان کا کچھ کلام ضائع بھی ہو گیا۔ اس کے باوجود جو سرمایۂ سخن محفوظ رہا، وہ اردو ادب کی تاریخ میں ذوقؔ کے بلند مرتبے کی گواہی دیتا ہے۔ آج بھی ان کا نام اردو شاعری کی کلاسیکی روایت اور درباری ادب کی ایک مضبوط علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔