مذکور تیری بزم میں کس کا نہیں آتا
پر ذکر ہمارا نہیں آتا نہیں آتا
دیتا دل مضطر کو تیری کچھ تو نشانی
پر خط بھی تیرے ہاتھ کا لکھا نہیں آتا
ہم رونے پر آجائیں تو دریا ہی بہادیں
شبنم کی طرح سے ہمیں رونا نہیں آتا
آتا ہے تو آجا کہ کوئی دم کی ہے فرصت
پھر دیکھئے آتا بھی ہے دم یا نہیں آتا
قسمت سے ہی لاچار ہوں اے ذوق وگرنہ
سب فن میں ہوں طاق مجھے کیا نہیں آتا
شیخ ابراہیم ذوق