شیخ ابراہیم ذوق

شاعر

تعارف شاعری

شوق نظارہ ہے جب سے اس رخ پر نور کا

شوق نظارہ ہے جب سے اس رخ پر نور کا
ہے مرا مرغ نظر پروانہ شمع طور کا
اے صنم کیا پوچھتا ہے حال اس رنجور کا
دل نہ اٹکائے کہیں اللہ بے مقدور کا
لطف جاتا ہے سرود نالۂ پر شور کا
خون دل پینا ہے یہ کھانا مجھے سیندور کا
وادیٔ ظلمت میں اپنی دخل کب ہے نور کا
مہر اک شعلہ سا ہے سو بھی چراغ دور کا
تیرے قامت سے جو ہو برپا قیامت سر و پر
کام لے منقار سے فریاد قمری صور کا
ذوقؔ راہ عشق وہ کوچہ ہے جس کی خاک میں
ہے در تاج سلیماں بیضہ بیضہ مور کا

شیخ ابراہیم ذوق