شکیل بدیوانی

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

شکیل بدایونی اردو شاعری اور بھارتی فلمی نغمہ نگاری کے ان ممتاز ناموں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے منفرد اسلوب، رومانویت اور لفظوں کی لطافت سے ایک الگ پہچان قائم کی۔ ۳ اگست ۱۹۱۶ء کو بدایوں (اتر پردیش) کے ایک مذہبی اور علمی گھرانے میں پیدا ہونے والے شکیل کا اصل نام شکیل احمد تھا۔ ان کے والد محمد جمال احمد سختہ قادری عربی، فارسی اور اردو کے عالم تھے، اور اسی علمی ماحول نے شکیل بدایونی کی زبان و بیان کو ابتدا ہی سے نکھار دیا۔ گھر پر ہی انہوں نے قرآن، عربی و فارسی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی، جبکہ آگے چل کر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے کیا۔ طالب علمی کے دور میں ہی وہ مشاعروں میں شرکت کرنے لگے اور بہت جلد اپنی نرم گفتار غزلوں اور حسّاس لہجے کے باعث نوجوان شعراء میں منفرد مقام حاصل کر لیا

شکیل بدایونی کی شاعری محض رومانی جذبات تک محدود نہیں تھی بلکہ انسانی کیفیات، دکھ، محبت، انتظار اور روحانی جذبوں کی ایسی تہہ دار عکاسی کرتی تھی جو ہر دور کے قاری کے دل کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ ان کی نعتیہ شاعری بھی غیر معمولی شہرت کی حامل ہے؛ ان کے مجموعے “نغمۂ فردوس” نے اردو نعت گوئی میں ایک تازہ رنگ پیدا کیا۔ شکیل کی غزلوں اور نظموں میں کلاسیکی تہذیب، جدید احساس اور زبان کی لطافت ایک ساتھ ملتی ہے۔ ان کی نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ سادگی کو حسن بناتے تھے—ان کے اشعار نہ صرف دل میں اترتے ہیں بلکہ دیر تک ذہن میں بسی رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ادب کے نقاد انہیں اُن شعراء میں شمار کرتے ہیں جنہوں نے جدید اردو غزل کو فلمی دنیا سے جڑے ہونے کے باوجود کسی بھی ادبی کمزوری کا شکار نہیں ہونے دیا۔

۱۹۴۰ء کی دہائی کے وسط میں شکیل بدایونی نے بمبئی کا رخ کیا اور ۱۹۴۷ء میں فلم درد سے نغمہ نگار کے طور پر اپنی فلمی زندگی کا آغاز کیا۔ شکیل اور موسیقار نوشاد کی جوڑی نے ہندوستانی فلمی موسیقی کو وہ لازوال گیت دیے جو آج بھی کلاسک سمجھے جاتے ہیں—بیجو باورہ، مدر انڈیا، مغلِ اعظم، دلاری، گنگا جمنا اور میرے محبوب جیسے شاہکار ان کے فن کی گواہی دیتے ہیں۔ ۱۹۶۱ء سے ۱۹۶۳ء تک انہیں لگاتار تین فلم فیئر ایوارڈ ملے، جو ان کی خلاقی عظمت کا ثبوت ہے۔ ۲۰ اپریل ۱۹۷۰ء کو ۵۳ برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوا، مگر وہ وراثت چھوڑ گئے جو نہ صرف فلمی دنیا بلکہ اردو ادب دونوں کو ہمیشہ روشن رکھے گی۔ شکیل بدایونی آج بھی دلوں میں زندہ ہیں—اپنے گیتوں کی مٹھاس، اپنی غزلوں کی حرارت اور اپنے الفاظ کی سچائی کے ساتھ۔