شکیل بدیوانی

شاعر

تعارف شاعری

دور ہیں وہ اور کتنی دور

دور ہیں وہ اور کتنی دور
پھر بھی مری نظروں کے حضور
رنج و مصیبت جور و ستم
آپ کی خاطر سب منظور
دل پر بیتے لب پہ نہ آئے
ہائے محبت کا دستور
حسرت دید از دید بلند
حور سے بہتر وعدۂ حور
پردۂ رنگ و بو تو اٹھاؤ
ہوگا کوئی نہ کوئی ضرور
دور ترقی کیا ہے شکیلؔ
دنیا کی عقلوں کا فتور

شکیل بدیوانی