شکیل بدیوانی — شاعر کی تصویر

کیسے کہہ دوں کی ملاقات نہیں ہوتی ہے — شکیل بدیوانی

شاعر

تعارف شاعری

کیسے کہہ دوں کی ملاقات نہیں ہوتی ہے

کیسے کہہ دوں کی ملاقات نہیں ہوتی ہے
روز ملتے ہیں مگر بات نہیں ہوتی ہے
آپ للہ نہ دیکھا کریں آئینہ کبھی
دل کا آ جانا بڑی بات نہیں ہوتی ہے
چھپ کے روتا ہوں تری یاد میں دنیا بھر سے
کب مری آنکھ سے برسات نہیں ہوتی ہے
حال دل پوچھنے والے تری دنیا میں کبھی
دن تو ہوتا ہے مگر رات نہیں ہوتی ہے
جب بھی ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ کیسے ہو شکیلؔ
اس سے آگے تو کوئی بات نہیں ہوتی ہے

Kaise Keh Dun Ki Mulaqat Nahin Hoti Hai

Kaise keh dun ki mulaqat nahin hoti hai
Roz milte hain magar baat nahin hoti hai
Aap lillah na dekha karen aaina kabhi
Dil ka aa jaana badi baat nahin hoti hai
Chhup ke rota hun teri yaad mein duniya bhar se
Kab meri aankh se barsaat nahin hoti hai
Haal-e-dil poochhne wale teri duniya mein kabhi
Din to hota hai magar raat nahin hoti hai
Jab bhi milte hain to kehte hain ke kaise ho Shakeel
Is se aage to koi baat nahin hoti hai

شاعر کے بارے میں

شکیل بدیوانی

شکیل بدایونی اردو شاعری اور بھارتی فلمی نغمہ نگاری کے ان ممتاز ناموں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے منفرد اسلوب، رومانویت اور لفظوں کی لطافت سے ایک الگ پہچان قائم کی۔ ۳ اگست ۱۹۱۶ء کو بدایوں (اتر پردیش) کے ایک مذہبی اور علمی گھرانے میں پیدا ہونے والے شکیل کا اصل نام شکیل احمد تھا۔ ان کے والد محمد جمال احمد سختہ قادری عربی، فارسی اور اردو کے عالم...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام