کلامِ شاعر
- 01 غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کر
- 02 دور ہے منزل، راہیں مشکل، عالم ہے تنہائی کا
- 03 غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچے
- 04 جنوں سے گزرنے کو جی چاہتا ہے
- 05 کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہے
- 06 دور ہیں وہ اور کتنی دور
- 07 دل کے بہلانے کی تدبیر تو ہے
- 08 اے عشق یہ سب دنیا والے بیکار کی باتیں کرتے ہیں
- 09 دل مرکز حجاب بنایا نہ جائے گا
- 10 رہا گردشوں میں ہر دم مرے عشق کا ستارہ
- 11 شاید آغاز ہوا پھر کسی افسانے کا
- 12 بے خودی ہے نہ ہوشیاری ہے
- 13 مجھے بھول جا
- 14 نہ پیمانے کھنکتے ہیں نہ دور جام چلتا ہے
- 15 آج پھر گردش تقدیر پہ رونا آیا
- 16 پہلو میں درد عشق کی دنیا لیے ہوئے
- 17 ہر گوشۂ نظر میں سمائے ہوئے ہو تم
- 18 تری انجمن میں ظالم عجب اہتمام دیکھا
- 19 تکمیل شباب چاہتا ہوں
- 20 رقاصۂ حیات سے
- 21 آخری وقت ہے آخری سانس ہے زندگی کی ہے شام آخری آخری
- 22 جینے والے قضا سے ڈرتے ہیں
- 23 کیسے کہہ دوں کی ملاقات نہیں ہوتی ہے
- 24 موسم گل ساتھ لے کر برق و دام آ ہی گیا
- 25 لمحہ لمحہ بار ہے تیرے بغیر
- 26 مرے ہم نفس مرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے
- 27 بدلے بدلے مرے غم خوار نظر آتے ہیں
- 28 آنکھ سے آنکھ ملاتا ہے کوئی
- 29 اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا
- 30 مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں
- 31 یاد میں تیری جاگ جاگ کے ہم رات بھر کروٹیں بدلتے ہیں