search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
شکیل بدیوانی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کر
دور ہے منزل، راہیں مشکل، عالم ہے تنہائی کا
غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچے
جنوں سے گزرنے کو جی چاہتا ہے
کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہے
دور ہیں وہ اور کتنی دور
دل کے بہلانے کی تدبیر تو ہے
اے عشق یہ سب دنیا والے بیکار کی باتیں کرتے ہیں
دل مرکز حجاب بنایا نہ جائے گا
رہا گردشوں میں ہر دم مرے عشق کا ستارہ
شاید آغاز ہوا پھر کسی افسانے کا
بے خودی ہے نہ ہوشیاری ہے
مجھے بھول جا
نہ پیمانے کھنکتے ہیں نہ دور جام چلتا ہے
آج پھر گردش تقدیر پہ رونا آیا
پہلو میں درد عشق کی دنیا لیے ہوئے
ہر گوشۂ نظر میں سمائے ہوئے ہو تم
تری انجمن میں ظالم عجب اہتمام دیکھا
تکمیل شباب چاہتا ہوں
رقاصۂ حیات سے
آخری وقت ہے آخری سانس ہے زندگی کی ہے شام آخری آخری
جینے والے قضا سے ڈرتے ہیں
کیسے کہہ دوں کی ملاقات نہیں ہوتی ہے
موسم گل ساتھ لے کر برق و دام آ ہی گیا
لمحہ لمحہ بار ہے تیرے بغیر
مرے ہم نفس مرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے
بدلے بدلے مرے غم خوار نظر آتے ہیں
آنکھ سے آنکھ ملاتا ہے کوئی
اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا
مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں
یاد میں تیری جاگ جاگ کے ہم رات بھر کروٹیں بدلتے ہیں