تری انجمن میں ظالم عجب اہتمام دیکھا
کہیں زندگی کی بارش کہیں قتل عام دیکھا
میری عرض شوق پڑھ لیں یہ کہاں انہیں گوارا
وہیں چاک کر دیا خط جہاں میرا نام دیکھا
بڑی منتوں سے آ کر وہ مجھے منا رہے ہیں
میں بچا رہا ہوں دامن مرا انتقام دیکھا
اے شکیلؔ روح پرور تری بے خودی کے نغمے
مگر آج تک نہ ہم نے ترے لب پہ جام دیکھا
شکیل بدیوانی
Teri anjuman mein zalim ajab ihtemam dekha
Kahin zindagi ki barish kahin qatl-e-aam dekha
Meri arz-e-shauq padh len ye kahan unhein gawara
Wahin chaak kar diya khat jahan mera naam dekha
Badi minnaton se aa kar wo mujhe mana rahe hain
Main bacha raha hun daman mera intiqam dekha
Aye Shakeel ruh-parwar teri be-khudi ke naghme
Magar aaj tak na hum ne tere lab pe jam dekha
شکیل بدایونی اردو شاعری اور بھارتی فلمی نغمہ نگاری کے ان ممتاز ناموں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے منفرد اسلوب، رومانویت اور لفظوں کی لطافت سے ایک الگ پہچان قائم کی۔ ۳ اگست ۱۹۱۶ء کو بدایوں (اتر پردیش) کے ایک مذہبی اور علمی گھرانے میں پیدا ہونے والے شکیل کا اصل نام شکیل احمد تھا۔ ان کے والد محمد جمال احمد سختہ قادری عربی، فارسی اور اردو کے عالم...
مکمل تعارف پڑھیں