عمیر نجمی

شاعر

تعارف شاعری

بندوق تانتے ہیں ہدف دیکھتے ہیں بس

بندوق تانتے ہیں ہدف دیکھتے ہیں بس
اپنا ہے بے ضرر سا شغف دیکھتے ہیں بس
وہ جن کو مانگنا بھی پڑے اور لوگ ہیں
ہم لوگ آسماں کی طرف دیکھتے ہیں بس
گھڑیاں تو بک گئی تھیں برے وقت میں تمام
اب عادتاً قمیض کے کف دیکھتے ہیں بس
اپنی جگہ پتہ ہے سو مسجد میں جا کے ہم
جوتوں کے آس پاس کی صف دیکھتے ہیں بس
مجھ کو بہ‌ غور دیکھ کے کہنے لگا فقیر
ایسے مریض شاہ نجف دیکھتے ہیں بس
تو دیکھ بس خلا میں معلق یہ کائنات
اس سے پرے تو اہل شرف دیکھتے ہیں بس
کیوں پوچھتے ہیں خود کو کہاں دیکھتے ہیں کل
خاکی ہیں خود کو خاک میں لف دیکھتے ہیں بس

عمیر نجمی