جنون میں کر دیا تھا کب کچھ نہیں پتہ تھا
میں عشق میں مبتلا تھا تب کچھ نہیں پتہ تھا
یہ ڈھونڈھتے ہو جو اب جنوں سے فرار کی راہ
تم اس طرف آئے کیوں تھے جب کچھ نہیں پتہ تھا
سمجھ نہیں آ رہی تھی روؤں پھروں کہ سوؤں
تھی ہجر کی پہلی پہلی شب کچھ نہیں پتہ تھا
مجھے بس اتنا پتہ تھا افسردگی بہت ہے
نتیجہ دورانیہ سبب کچھ نہیں پتہ تھا
میں چومتا تھا وہ ہاتھ دیوانہ وار نجمیؔ
وہ خبط تھا عشق یا ادب کچھ نہیں پتہ تھا
عمیر نجمی