وسیم بریلوی

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

پروفیسر وسیم بریلوی، جن کا اصل نام زاہد حسین ہے، 8 فروری 1940ء کو بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر بریلی میں پیدا ہوئے۔ وہ عہدِ حاضر کے ممتاز اور ہمہ گیر شہرت رکھنے والے اردو شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ اپنے قلمی تخلص “وسیم” سے معروف، انہوں نے محبت، انسان دوستی، درد، امید اور روحانی کیفیات کو نہایت دلنشیں اور سادہ مگر اثر انگیز انداز میں بیان کیا، جس کے باعث ان کی شاعری سرحدوں سے ماورا ہو کر بھارت، پاکستان اور دنیا بھر کے اردو قارئین و سامعین میں مقبول ہوئی۔ ان کے کئی اشعار گلوکار جگجیت سنگھ نے بھی گائے جس سے عوامی سطح پر ان کی پذیرائی میں مزید اضافہ ہوا۔

تعلیم کے میدان میں وسیم بریلوی نے آگرہ یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے کیا اور بعد ازاں تدریسی شعبے سے وابستہ ہو گئے۔ وہ اسسٹنٹ پروفیسر، ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پھر شعبۂ اردو کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ روہیل کھنڈ یونیورسٹی میں وہ فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین بھی رہے۔ علمی و ادبی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے قومی سطح پر بھی کردار ادا کیا اور نیشنل کونسل برائے فروغِ اردو زبان (NCPUL) کے وائس چیئرمین کے عہدے پر فائز رہے۔ 2016ء سے وہ اتر پردیش کی قانون ساز کونسل (MLC) کے رکن ہیں اور اس حیثیت سے بھی زبان و ادب کی ترویج میں حصہ لیتے رہے ہیں۔

ادبی اعتبار سے وسیم بریلوی کی تصانیف میں تبسمِ غم (1966ء)، آنسو میرے دامن تیرا، مزاج، آنکھ آنسو ہوئی، آنسو آنکھوں رہیں اور موسم اندر بہار کے جیسے اہم مجموعے شامل ہیں، جن میں بعض اردو اور بعض ہندی زبان میں شائع ہوئے اور یوں ان کی دو لسانی مقبولیت مستحکم ہوئی۔ انہیں فراق گورکھپوری انٹرنیشنل ایوارڈ، کالیداس گولڈ میڈل، بیگم اختر کلا دھرمِی ایوارڈ اور نسیمِ اردو ایوارڈ سمیت متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ وہ ملک و بیرون ملک مشاعروں میں بھرپور شرکت کرتے رہے ہیں۔ زندگی کے مختلف مراحل میں انہیں بعض مشکلات کا بھی سامنا رہا، مثلاً ان کے نام سے جعلی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر قانونی کارروائیاں اور 2023ء میں ایک سڑک حادثہ جس میں وہ معمولی زخمی ہوئے، تاہم وہ محفوظ رہے۔ اپنی علمی وجاہت، شائستہ طرزِ اظہار اور انسانی قدروں سے بھرپور شاعری کے باعث وسیم بریلوی کا نام معاصر اردو ادب میں ہمیشہ احترام سے لیا جائے گا۔