کلامِ شاعر
- 01 امانت
- 02 شہر میرا
- 03 بے بسی
- 04 وہ جانتے ہی نہیں
- 05 ادنیٰ سا باسی
- 06 کھلونا
- 07 ایک نظم
- 08 تیری یاد
- 09 دیوانے کی جنت
- 10 خواب نہیں دیکھا ہے
- 11 یہی بزم عیش ہوگی یہی دور جام ہوگا
- 12 خوشی کا ساتھ ملا بھی تو دل پہ بار رہا
- 13 مٹے وہ دل جو ترے غم کو لے کے چل نہ سکے
- 14 تجھ کو سوچا تو پتا ہو گیا رسوائی کو
- 15 مجھے بجھا دے مرا دور مختصر کر دے
- 16 میرا کیا تھا میں ٹوٹا کہ بکھرا رہا
- 17 اس نے میری راہ نہ دیکھی اور وہ رشتہ توڑ لیا
- 18 تمہیں غموں کا سمجھنا اگر نہ آئے گا
- 19 وہ میرے بالوں میں یوں انگلیاں پھراتا تھا
- 20 تمام عمر بڑے سخت امتحان میں تھا
- 21 نہ جانے کیوں مجھے اس سے ہی خوف لگتا ہے
- 22 سفر پہ آج وہی کشتیاں نکلتی ہیں
- 23 ملی ہواؤں میں اڑنے کی وہ سزا یارو
- 24 تم ساتھ نہیں ہو تو کچھ اچھا نہیں لگتا
- 25 نگاہوں کے تقاضے چین سے مرنے نہیں دیتے
- 26 اپنے ہر ہر لفظ کا خود آئنہ ہو جاؤں گا
- 27 زندگی تجھ پہ اب الزام کوئی کیا رکھے
- 28 ذرا سا قطرہ کہیں آج اگر ابھرتا ہے
- 29 یہ ہے تو سب کے لیے ہو یہ ضد ہماری ہے
- 30 وہ مجھ کو کیا بتانا چاہتا ہے
- 31 وہ میرے گھر نہیں آتا میں اس کے گھر نہیں جاتا
- 32 اسے سمجھنے کا کوئی تو راستہ نکلے
- 33 اداسیوں میں بھی رستے نکال لیتا ہے
- 34 تو سمجھتا ہے کہ رشتوں کی دہائی دیں گے
- 35 تمہاری راہ میں مٹی کے گھر نہیں آتے
- 36 تحریر سے ورنہ مری کیا ہو نہیں سکتا
- 37 صرف تیرا نام لے کر رہ گیا
- 38 شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں
- 39 سبھی کا دھوپ سے بچنے کو سر نہیں ہوتا
- 40 سب نے ملائے ہاتھ یہاں تیرگی کے ساتھ
- 41 رنگ بے رنگ ہوں خوشبو کا بھروسہ جائے
- 42 نہیں کہ اپنا زمانہ بھی تو نہیں آیا
- 43 مجھے تو قطرہ ہی ہونا بہت ستاتا ہے
- 44 محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہے
- 45 مری وفاؤں کا نشہ اتارنے والا
- 46 میرے غم کو جو اپنا بتاتے رہے
- 47 میں یہ نہیں کہتا کہ مرا سر نہ ملے گا
- 48 میں اس امید پہ ڈوبا کہ تو بچا لے گا
- 49 میں اپنے خواب سے بچھڑا نظر نہیں آتا
- 50 میں آسماں پہ بہت دیر رہ نہیں سکتا
- 51 لہو نہ ہو تو قلم ترجماں نہیں ہوتا
- 52 کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا
- 53 کیا بتاؤں کیسا خود کو در بدر میں نے کیا
- 54 کچھ اتنا خوف کا مارا ہوا بھی پیار نہ ہو
- 55 کتنا دشوار تھا دنیا یہ ہنر آنا بھی
- 56 کھل کے ملنے کا سلیقہ آپ کو آتا نہیں
- 57 کہاں ثواب کہاں کیا عذاب ہوتا ہے
- 58 کہاں قطرہ کی غم خواری کرے ہے
- 59 جہاں دریا کہیں اپنے کنارے چھوڑ دیتا ہے
- 60 حویلیوں میں مری تربیت نہیں ہوتی
- 61 ہمارا عزم سفر کب کدھر کا ہو جائے
- 62 ہم اپنے آپ کو اک مسئلہ بنا نہ سکے
- 63 حادثوں کی زد پہ ہیں تو مسکرانا چھوڑ دیں
- 64 دور سے ہی بس دریا دریا لگتا ہے
- 65 دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتا
- 66 دعا کرو کہ کوئی پیاس نذر جام نہ ہو
- 67 چلو ہم ہی پہل کر دیں کہ ہم سے بد گماں کیوں ہو
- 68 چاند کا خواب اجالوں کی نظر لگتا ہے
- 69 بیتے ہوئے دن خود کو جب دہراتے ہیں
- 70 بھلا غموں سے کہاں ہار جانے والے تھے
- 71 اپنے سائے کو اتنا سمجھانے دے
- 72 اپنے ہر ہر لفظ کا خود آئینہ ہو جاؤں گا
- 73 اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے
- 74 اپنے انداز کا اکیلا تھا
- 75 اندھیرا ذہن کا سمت سفر جب کھونے لگتا ہے
- 76 آتے آتے مرا نام سا رہ گیا