search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
وسیم بریلوی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
امانت
شہر میرا
بے بسی
وہ جانتے ہی نہیں
ادنیٰ سا باسی
کھلونا
ایک نظم
تیری یاد
دیوانے کی جنت
خواب نہیں دیکھا ہے
یہی بزم عیش ہوگی یہی دور جام ہوگا
خوشی کا ساتھ ملا بھی تو دل پہ بار رہا
مٹے وہ دل جو ترے غم کو لے کے چل نہ سکے
تجھ کو سوچا تو پتا ہو گیا رسوائی کو
مجھے بجھا دے مرا دور مختصر کر دے
میرا کیا تھا میں ٹوٹا کہ بکھرا رہا
اس نے میری راہ نہ دیکھی اور وہ رشتہ توڑ لیا
تمہیں غموں کا سمجھنا اگر نہ آئے گا
وہ میرے بالوں میں یوں انگلیاں پھراتا تھا
تمام عمر بڑے سخت امتحان میں تھا
نہ جانے کیوں مجھے اس سے ہی خوف لگتا ہے
سفر پہ آج وہی کشتیاں نکلتی ہیں
ملی ہواؤں میں اڑنے کی وہ سزا یارو
تم ساتھ نہیں ہو تو کچھ اچھا نہیں لگتا
نگاہوں کے تقاضے چین سے مرنے نہیں دیتے
اپنے ہر ہر لفظ کا خود آئنہ ہو جاؤں گا
زندگی تجھ پہ اب الزام کوئی کیا رکھے
ذرا سا قطرہ کہیں آج اگر ابھرتا ہے
یہ ہے تو سب کے لیے ہو یہ ضد ہماری ہے
وہ مجھ کو کیا بتانا چاہتا ہے
وہ میرے گھر نہیں آتا میں اس کے گھر نہیں جاتا
اسے سمجھنے کا کوئی تو راستہ نکلے
اداسیوں میں بھی رستے نکال لیتا ہے
تو سمجھتا ہے کہ رشتوں کی دہائی دیں گے
تمہاری راہ میں مٹی کے گھر نہیں آتے
تحریر سے ورنہ مری کیا ہو نہیں سکتا
صرف تیرا نام لے کر رہ گیا
شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں
سبھی کا دھوپ سے بچنے کو سر نہیں ہوتا
سب نے ملائے ہاتھ یہاں تیرگی کے ساتھ
رنگ بے رنگ ہوں خوشبو کا بھروسہ جائے
نہیں کہ اپنا زمانہ بھی تو نہیں آیا
مجھے تو قطرہ ہی ہونا بہت ستاتا ہے
محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہے
مری وفاؤں کا نشہ اتارنے والا
میرے غم کو جو اپنا بتاتے رہے
میں یہ نہیں کہتا کہ مرا سر نہ ملے گا
میں اس امید پہ ڈوبا کہ تو بچا لے گا
میں اپنے خواب سے بچھڑا نظر نہیں آتا
میں آسماں پہ بہت دیر رہ نہیں سکتا
لہو نہ ہو تو قلم ترجماں نہیں ہوتا
کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا
کیا بتاؤں کیسا خود کو در بدر میں نے کیا
کچھ اتنا خوف کا مارا ہوا بھی پیار نہ ہو
کتنا دشوار تھا دنیا یہ ہنر آنا بھی
کھل کے ملنے کا سلیقہ آپ کو آتا نہیں
کہاں ثواب کہاں کیا عذاب ہوتا ہے
کہاں قطرہ کی غم خواری کرے ہے
جہاں دریا کہیں اپنے کنارے چھوڑ دیتا ہے
حویلیوں میں مری تربیت نہیں ہوتی
ہمارا عزم سفر کب کدھر کا ہو جائے
ہم اپنے آپ کو اک مسئلہ بنا نہ سکے
حادثوں کی زد پہ ہیں تو مسکرانا چھوڑ دیں
دور سے ہی بس دریا دریا لگتا ہے
دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتا
دعا کرو کہ کوئی پیاس نذر جام نہ ہو
چلو ہم ہی پہل کر دیں کہ ہم سے بد گماں کیوں ہو
چاند کا خواب اجالوں کی نظر لگتا ہے
بیتے ہوئے دن خود کو جب دہراتے ہیں
بھلا غموں سے کہاں ہار جانے والے تھے
اپنے سائے کو اتنا سمجھانے دے
اپنے ہر ہر لفظ کا خود آئینہ ہو جاؤں گا
اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے
اپنے انداز کا اکیلا تھا
اندھیرا ذہن کا سمت سفر جب کھونے لگتا ہے
آتے آتے مرا نام سا رہ گیا