اداسیوں میں بھی رستے نکال لیتا ہے
عجیب دل ہے گروں تو سنبھال لیتا ہے
یہ کیسا شخص ہے کتنی ہی اچھی بات کہو
کوئی برائی کا پہلو نکال لیتا ہے
ڈھلے تو ہوتی ہے کچھ اور احتیاط کی عمر
کہ بہتے بہتے یہ دریا اچھال لیتا ہے
بڑے بڑوں کی طرح داریاں نہیں چلتیں
عروج تیری خبر جب زوال لیتا ہے
جب اس کے جام میں اک بوند تک نہیں ہوتی
وہ میری پیاس کو پھر بھی سنبھال لیتا ہے
وسیم بریلوی
Udasiyon mein bhi raste nikal leta hai
Ajeeb dil hai giro to sambhal leta hai
Ye kaisa shakhs hai kitni hi achhi baat kaho
Koi burai ka pehlu nikal leta hai
Dhale to hoti hai kuch aur ehtiyat ki umr
Ke behte behte ye darya uchhal leta hai
Bade badon ki tarah dariyan nahin chaltin
Urooj teri khabar jab zawaal leta hai
Jab us ke jam mein ek boond tak nahin hoti
Woh meri pyaas ko phir bhi sambhal leta hai
پروفیسر وسیم بریلوی، جن کا اصل نام زاہد حسین ہے، 8 فروری 1940ء کو بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر بریلی میں پیدا ہوئے۔ وہ عہدِ حاضر کے ممتاز اور ہمہ گیر شہرت رکھنے والے اردو شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ اپنے قلمی تخلص “وسیم” سے معروف، انہوں نے محبت، انسان دوستی، درد، امید اور روحانی کیفیات کو نہایت دلنشیں اور سادہ مگر اثر انگیز انداز میں بیان کیا، ...
مکمل تعارف پڑھیں