وزیر آغا

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

ڈاکٹر وزیر آغا 18 مئی 1922 کو ضلع سرگودھا کے گاؤں وزیر کوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول سے حاصل کی اور بعد میں گورنمنٹ کالج جھنگ سے گریجویشن، جبکہ گورنمنٹ کالج لاہور سے معاشیات میں ایم۔اے کیا۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے “اردو ادب میں طنز و مزاح” کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔ اپنے ادبی کیریئر کا آغاز انہوں نے شاعری اور انشائیہ نگاری سے کیا اور ابتدا میں “نصرت آرا نصرت” یا “نصیر آغا” کے تخلصات استعمال کیے۔ بعد ازاں اپنے اصل نام سے اردو ادب میں فعال ہوئے اور جدید تنقیدی فکر کو فروغ دیا۔ وہ ترقی پسند اور علمی حلقوں سے وابستہ رہے اور اردو تنقید میں امتزاجی نظریات (ادب اور علم کو فلسفہ، سائنس، معاشیات کے زاویوں سے جوڑ کر تنقیدی سوچ) کو متعارف کرانے والے اہم ادیب تھے۔

ڈاکٹر وزیر آغا نے ادبی رسائل و جریدوں کی ادارت میں نمایاں کردار ادا کیا، جن میں ان کا اپنا جریدہ اوراق اور 1965 سے طویل عرصہ تک جاری رہنے والا روزنامہ امروز شامل ہیں۔ انہوں نے شاعر، نقاد، مصنف اور انشائیہ نگار کے طور پر اردو ادب کو بے شمار خدمات فراہم کیں اور حکومت پاکستان کی جانب سے ستارۂ امتیاز سے بھی نوازے گئے۔ وہ زیادہ تر زندگی لاہور میں مقیم رہے اور ریڈیو پاکستان میں بھی اہم خدمات انجام دیتے رہے۔ 8 ستمبر 2010 کو لاہور میں انتقال پایا اور ان کی تدفین آبائی گاؤں وزیر کوٹ میں ہوئی۔ کم معلوم مگر دلچسپ حقائق میں شامل ہے کہ انہوں نے فارسی والد سے سیکھی، پنجابی والدہ سے، اور انگریزی مطالعے و دوستوں سے حاصل کی، اور ان کے پی ایچ ڈی کا موضوع اردو ادب میں طنز و مزاح تھا، جو اس وقت ایک نیا اور انوکھا موضوع تھا۔