بیاض شب و روز پر دستخط تیرے قدموں کے ہوں
بدن کے پسینے سے قرنوں کے اوراق مہکیں
صبا تیرے رستے سے کنکر ہٹائے
فلک پر گرجتا ہوا گرم بادل
ترے تن کی قوس قزح کا
لرزتا دمکتا ہوا کوئی منظر دکھائے
تجھے ہر قدم پر ملیں منزلیں
ہوا ایک باریک سے تیز چابک کی صورت
تری بند مٹھی میں دبکی رہے
سدا تجھ کو حیرت سے دیکھے زمانہ
تو بہتے ہوئے تیز دھاروں کی منزل بنے
بادباں سارے تیری ہی جانب کھلیں
اور افق کی منڈیروں پہ کونجوں کی لمبی قطاریں
تری منتظر ہوں
اگر میں زمیں کے سیہ تنگ پاتال میں گر بھی جاؤں تو کیا ہے
تجھے تو زمیں کورے کاغذ کی صورت ملے
بیاض شب و روز پر دستخط ترے قدموں کے ہوں
چہکتے ہوئے تینوں نٹکھٹ زمانے
ترے گرد ناچیں
تو بنسی کی تانوں سے ہر شے کو پاگل کرے نذر آتش کرے
توڑ ڈالے
مگر خود نہ ٹوٹے
مگر خود نہ ٹوٹے
کبھی تو نہ ٹوٹے
وزیر آغا