وزیر آغا

شاعر

تعارف شاعری

پتھروں کی قید میں اک آب جو

پتھروں کی قید میں اک آب جو
بے کراں نیلا سمندر چار سو
ریزہ ریزہ ہو گیا ہوں میں اگر
چور وہ بھی ہو چکا ہے مو بہ مو
یاد کا بے نام سا اب لمس اور
میرے اندر مشک بو ہی مشک بو
اوڑھ لیں اب رات کی ٹھنڈک تمام
ہے اسی میں تیری میری آبرو
کون تھا جس نے مجھے تنہا کیا
چھین کر مجھ سے تمہاری آرزو
کیا نظر آیا ہے تجھ کو ابر میں
کیوں ہوا ہے اس قدر بیمار تو
پھول کی ریکھا میں اس نے دیکھ کر
کھینچ دی تصویر میری ہو بہ ہو
پھول خوشبو رنگ کاغذ اور میں
ہو رہی ہے بے صدا اک گفتگو
عکس اندر عکس میں آؤں نظر
تو اگر آ جائے میرے روبرو

وزیر آغا