ظفر گورکھپوری، جن کا اصل نام ظفر الدین تھا، ۵ مئی ۱۹۳۵ کو بیدولی بابو، ضلع گورکھ پور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور کم عمری میں ہی اپنے والد کے ساتھ ممبئی منتقل ہوگئے، جہاں انہوں نے پوری زندگی سکونت اختیار کیے رکھی۔ پیشے کے اعتبار سے وہ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے محکمہ تعلیم سے وابستہ رہے—ابتدا میں استاد اور بعد ازاں ہیڈ ماسٹر کے منصب پر فائز ہوئے اور یکم جولائی ۱۹۹۳ کو ریٹائر ہوئے۔ تاہم ان کی اصل شناخت اردو کے ممتاز شاعر، نثر نگار، بچوں کے ادیب اور ڈرامہ نویس کی ہے۔ ادب میں ان کی وابستگی ترقی پسند تحریک سے رہی اور ان کی شاعری میں روایت، اجتماعیت، انسانی دکھ، فکری بصیرت اور عصری حسّیت ایک مخصوص تہذیبی لہجے کے ساتھ نمایاں ہوتی ہے۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ "تیشہ" ۱۹۶۲ میں شائع ہوا، اور بعد ازاں آٹھ مجموعے منظرِ عام پر آئے جن میں "گوکھرو کے پھول" اور "ہلکی ٹھنڈی تازہ ہوا" کو خاص مقام حاصل ہے۔ بچوں کے لیے کہانیوں اور ڈراموں—جیسے ’’عقل حیران و پریشان‘‘، ’’ایک تھا کنکر‘‘، ’’ایک تھا موتی‘‘ اور ’’سمراٹ اشوک‘‘—کی تخلیق بھی ان کے ادبی کارناموں میں شامل ہے، جب کہ فلمی نغمہ نگاری میں بھی انہوں نے طبع آزمائی کی، اگرچہ اس میدان میں انہیں وہ شہرت حاصل نہ ہوسکی جو شاعری نے عطا کی۔
ظفر گورکھپوری کو مہاراشٹرا اردو اکیڈمی کا ریاستی ایوارڈ عطا کیا گیا، اور ان کا کلام ریاست بھر کے تعلیمی نصاب میں شامل ہوا، جو ان کی فکری قدر و قیمت کا ثبوت ہے۔ ان کی شخصیت ایک مخلص استاد، نرمی میں ڈھلا ہوا شاعر، اور بچوں کے ادب کا چاہنے والا ادیب تھی جسے مشاعروں میں اُس کے منفرد لہجے اور اثر انگیز آواز کے سبب خصوصی مقام حاصل رہا۔ وہ ۳۰ جولائی ۲۰۱۷ کو ممبئی میں وفات پا گئے اور وہیں چار بنگلہ ویسٹ، انڈیہر ویسٹ میموریل قبرستان میں سپردِ خاک کیے گئے۔ پس ماندگان میں ان کے تین بیٹے—اعجاز، امتیاز اور خالد—شامل ہیں۔ اپنی ادبی خدمات، فکری اثرات اور ہمہ جہت تخلیقی صلاحیتوں کے باعث ظفر گورکھپوری اردو ادب میں ایک معتبر اور منفرد مقام رکھتے ہیں، اور ان کی شاعری آج بھی تازگی، سچائی اور انسانی رشتوں کی لطافت کے ساتھ زندہ ہے۔