ظفرگورکھپوری

شاعر

تعارف شاعری

اور آہستہ کیجیے باتیں

اور آہستہ کیجیے باتیں
دھڑکنیں کوئی سُن رہا ہوگا
لفظ گِرنے نہ پائے ہونٹوں سے
وقت کے ہاتھ اُن کو چُن لیں گے
کان رکھتے ہیں یہ در و دیوار
راز کی ساری بات سُن لیں گے
اور آہستہ کیجیے باتیں
دھڑکنیں کوئی سُن رہا ہوگا
ایسے بولو کہ دِل کا افسانہ
دِل سُنے اور نِگاہ دُہرائے
اپنے چاروں طرف کی یہ دُنیا
سانس کا شور بھی نہ سُن پائے
اور آہستہ کیجیے باتیں
دھڑکنیں کوئی سُن رہا ہوگا
آئیے بند کر لیں دروازے
رات سپنے چُرا نہ لے جائے
کوئی جھونکا ہَوا کا آوارہ
دِل کی باتوں کو اُڑا نہ لے جائے
اور آہستہ کیجیے باتیں
دھڑکنیں کوئی سُن رہا ہوگا

ظفرگورکھپوری