ظفرگورکھپوری

شاعر

تعارف شاعری

دیکھے گا وہ، دِکھائے گا بھی، کیا کریں اُسے

دیکھے گا وہ، دِکھائے گا بھی، کیا کریں اُسے
وہ آئینہ ہے کس طرح اندھا کریں اُسے
بستی کو ہم جو چاند ستارے نہ سونپ پائیں
مِٹی کا ایک دِیاہی مہیا کریں اُسے
ہر پَل ہے ایک منظرِدیگرنِگاہ میں
ہاں جی تو چہاتا ہے کہ دیکھا کریں اسے
وہ جاں کا ہے رقیب تو گھر سے نکال دیں اسے
غم جی نہ پائے، یوں بھی تنہا کریں اسے
ہم جستجو میں گم رہیں اُس کی،یہ اپنی دُھن
اُس کو بھی اِس میں لُطف کہ ڈُھونڈا کریں اُسے
اپنے سِوا کوئی نہ اسے اور دیکھ پائے
آتا ہو یہ ہنر تو تماشا کریں اُسے
اس کی ہَوا میں آکے ظفر لوٹ پائیں گے؟
اِک حد کے بعد اور سوچا نہ کریں اُسے

ظفرگورکھپوری