ظفرگورکھپوری

شاعر

تعارف شاعری

فصل گل ہے سجا ہے مے خانہ

فصل گل ہے سجا ہے مے خانہ
چل مرے دل کھلا ہے مے خانہ
شام کے وقت بیٹھنے کے لیے
سب سے اچھی جگہ ہے مے خانہ
خط ہے شاید کسی شرابی کا
خط کے اوپر لکھا ہے مے خانہ
کس طرح چھوڑ دوں اسے واعظ
مشکلوں سے ملا ہے مے خانہ
زندگی جب گزارنی ہے کہیں
یار پھر کیا برا ہے مے خانہ
جب سے وہ آنکھ ہے خفا ہم سے
یوں لگے ہے خفا ہے مے خانہ

ظفرگورکھپوری