جُنوں کے مرحلے تم نے دکھا دئیے مجھ کو
غُبار لے کے نہ جانے کِدھر گیا ہوتا
بُلا رہی تھی مجھے گارگاہ ِشیشہ گراں
میں اپنے شعلے کو نیلام کر گیا ہوتا
ہوئی یہ خیر کہ احساس بن گیا تیشہ
میں غم کے کوہ سے ٹکرا گیا ہوتا
فراق ووصل کی مُردہ حکایتیں لے کر
دیارِ حُسن میں آشفتہ سَر گیا ہوتا
نئی بہار کے چہرے پہ ڈال کر پردہ
کلی کلی کی نظر سے اُتر گیا ہوتا
میں سادہ لوح مُسافر کسی کی زُلف تلے
رہ ِحیات میں تھک کر ٹھہر گیا ہوتا
نفس کی آگ، رگوں کی حسین چنگاری
یہ موتیوں کا خزانہ بکھر گیاہوتا
جہاں کی نبض شناسی تو خیردُوررہی
میں اپنے پاس ہو کرگُزرگیاہوتا
مُجھےیقین ہے کیفیؔ جو تم جاتے
شعورگُھٹ کے اندھیروں میں مر گیا ہوتا
ظفرگورکھپوری