ظفرگورکھپوری

شاعر

تعارف شاعری

شہر میں دل کے سروکار کہیں چلتے ہیں

شہر میں دل کے سروکار کہیں چلتے ہیں
دشت اپنوں کو سمجھتا ہے‘ وہیں چلتے ہیں
خود جہاں اپنی حرارت سے فروزاں ہوں چراغ
وہاں احکام ہواؤں کے نہیں چلتے ہیں
بوجھ جو سانسوں پہ ہے‘ کم نہیں ہونے والا
شہر میں حبس زیادہ ہے‘ کہیں چلتے ہیں
میں وہاں راہ کی‘ رفتار کی کیا بحث کروں
اپنے پیروں سے جہاں لوگ نہیں چلتے ہیں
پار کر جاؤں گا اک روز یہ صحرائے گماں
میں نہیں چلتا‘ مرے پائے یقیں چلتے ہیں
زندگی! تجھ سے زیادہ وہ سمجھتے ہیں تجھے
رکھ کے دن رات جو چھاتی پہ زمیں‘ چلتے ہیں
راستے اچھے‘ ہوا اچھی‘ سفر بھی دلچسپ
پہلے قدموں پہ تو آ جائے یقیں‘ چلتے ہیں

ظفرگورکھپوری