آنکھ کے کنارے پر، کچھ نہیں تھا ہو سکتا
آنسوؤں کے دھارےپر، کچھ نہیں تھا ہو سکتا
ڈوبتی ہوئی نبضیں، ڈوب ہی تو جانی تھیں
ہم تمہیں پکارے پر، کچھ نہیں تھا ہو سکتا
حسرتِ محبت میں آپ کے بنا لمحے
ہم نے بھی گزارے پر، کچھ نہیں تھا ہو سکتا
آپ نے خدا جانے کیوں نہ ہم کو اپنایا
آپ تھے ہمارے پر، کچھ نہیں تھا ہو سکتا
ہم بھی اور کیا کرتے، عمر کاٹ دی اپنی
آپ کے سہارے ،پر، کچھ نہیں تھا ہو سکتا
مانگ کر تمہارے دکھ اور اپنے سارے سکھ
ہم نے تم پہ وارے پر، کچھ نہیں تھا ہو سکتا
زین شکیل