زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

اب تو گھر جانے پہ دکھ ہوتا ہے

اب تو گھر جانے پہ دکھ ہوتا ہے
یوں ٹھہر جانے پہ دکھ ہوتا ہے
اتنا مانوس نہیں ہو جاتے
پھر بچھڑ جانے پہ دکھ ہوتا ہے
وہ گلی اب بھی ہے ویسی لیکن
بس گزر جانے پہ دکھ ہوتا ہے
ایک دن ہو تو گزر بھی جائے
روز مر جانے پہ دکھ ہوتا ہے
اب یہ بچپن تو نہیں سو ہم کو
ایسے ڈر جانے پہ دکھ ہوتا ہے
صاف گوئی تھی مناسب پھر بھی
بس مُکر جانے پہ دکھ ہوتا ہے
تم جہاں ہم سے ملا کرتے تھے
اب ادھر جانے پہ دکھ ہوتا ہے
اس لئے پھول نہیں ہوتا میں
بس بکھر جانے پہ دکھ ہوتا ہے
ہم تو مقتل بھی خوشی سے جائیں
اب کدھر جانے پہ دکھ ہوتا ہے

زین شکیل