زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

اکثر دل کا حال سنا کر روئے ہیں

اکثر دل کا حال سنا کر روئے ہیں
اکثر کوئی بات چھپا کر روئے ہیں
ایسے رونا کون گنے گا بولو ناں
ہنسنے جیسی شکل بنا کر روئے ہیں
ہنستے چہرے دیکھ کے ہم نے جانا ہے
ہم ہی تیرے شہر میں آکر روئے ہیں
اب جو نا منظور ہے کم رونا سو ہم
دریا اپنی آنکھ میں لا کر روئے ہیں
ہر اک دکھ پر آج ہی ماتم کرنا تھا
ساری خوشیاں پاس بلا کر روئے ہیں
پہلے رو رو اشک بہائے پھر روئے
دیکھو ہم ترتیب لگا کر روئے ہیں
ایسے کیسے زین بھلا ہم رو دیتے
سب کو اب کی بار ہنسا کر روئے ہیں

زین شکیل