زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

اس کی آنکھوں میں کوئی خواب ہمارا بھی نہیں

اس کی آنکھوں میں کوئی خواب ہمارا بھی نہیں
اور پلکوں پہ کوئی چاند اتارا بھی نہیں
ہم بھی چپ چاپ اسے جاتے ہوئے دیکھتے تھے
اس نے دیکھا بھی نہیں، ہم نے پکارا بھی نہیں
ایسی تعبیر کو لے کر میں کہاں پھرتا رہوں
اس کے ملنے کا تو خوابوں میں اشارہ بھی نہیں
تیری گلیوں میں تو ہم چاند لیے گھومتے تھے
اب تو ہاتھوں میں کوئی ایک ستارہ بھی نہیں
تم سے ملنا بھی بہر حال ہمیں ہے تو سہی
اس قدر بھیڑ میں لیکن یہ گوارہ بھی نہیں

زین شکیل