زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

اس طرح تیرے خیالوں میں رہا کرنا ہے

اس طرح تیرے خیالوں میں رہا کرنا ہے
ہاتھ میرا ترے بالوں میں رہا کرنا ہے
اب کوئی داد وستد بھی تو نہیں ہے ہم میں
تم نے کب تک یوں سوالوں میں رہا کرنا ہے
اب بھی وہ پیچ وہی خم ہیں تری زلفوں کے
ہم نے اب خیر اجالوں میں رہا کرنا ہے
آبلہ پائی بھی منزل پہ ہی کام آئے گی
کوئی قصہ مرے چھالوں میں رہا کرنا ہے
تجھ کو خوشیوں نے بھی اک روز بھلا دینا ہے
میں نے ہر غم کے حوالوں میں رہا کرنا ہے
میرے خوش فہم تجھے اب یہ غلط فہمی ہے
میں نے کب تیرے خیالوں میں رہا کرنا ہے!
تو نے اب بھی مرے دن مجھ سے چرا لینے ہیں
میں نے اب بھی تری چالوں میں رہا کرنا ہے

زین شکیل