زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

اے دوست محترم ہوں ذرا احتیاط کر

اے دوست محترم ہوں ذرا احتیاط کر
میں واصلِ کرم ہوں ذرا احتیاط کر
میرے سبب سے عشق کی وحشت ہے چار سو
میں حاصلِ ستم ہوں ذرا احتیاط کر
نقش و نگارِ حُسن مرے مت بگاڑ، سن
میں دین ہوں دھرم ہوں ذرا احتیاط کر
بے چین دن ہوں اور ہوں شامِ فراق بھی
میں ایک چشمِ نم ہوں ذرا احتیاط کر
اب بات بات پر تو اٹھایا نہ کر مجھے
میں یار کی قسم ہوں ذرا احتیاط کر
بے ضابطہ نہیں کہ مری آبرو نہ ہو
باقاعدہ الم ہوں ذرا احتیاط کر
پاتی ہے بس حیات مری ذات سے اجل
میں موت کا جنم ہوں ذرا احتیاط کر

زین شکیل