زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

بس گئی پھر دل کی بستی خواب میں

بس گئی پھر دل کی بستی خواب میں
دیکھ لی جب ایک ہستی خواب میں
نیند کی وادی تو جل تھل ہوگئی
آنکھ اب کتنا برستی خواب میں
ایک کو میلے سے لے آیا تھا میں
ایک گڑیا ہے ترستی خواب میں
کتنی مہنگی پڑ گئی ہے جاگ کر
تھی یہ دنیا کتنی سستی خواب میں
اب بلندی پر پہنچ جاؤں گا میں
دیکھ لی ہے میں نے پستی خواب میں
وقت کی بے درد ناگن تُو کبھی
کاش مجھ کو صرف ڈستی خواب میں
ہو گیا میں جاگ کر کتنا غنی
کس لئے تھی تنگ دستی خواب میں؟

زین شکیل