چل چپ کر بات نہ کر ڈھولا
مری گھائل ذات نہ کر ڈھولا
بیٹھی ہوں دریچے میں کب سے
اب آ جا لوٹ کے گھر ڈھولا
بھرتی ہوں اڑانیں سمت تری
مجھے لگ گئے پریم کے پَر ڈھولا
اب بین دیواریں کرتی ہیں
میرا کر گئے سُونا گھر، ڈھولا
رس گھول ناں میرے کانوں میں
کبھی مجھ سے باتیں کر ڈھولا
کہیں تیرا لمس نہ کھو جائے
مِرے دل سے جائے نہ ڈر ڈھولا
کبھی سن عرضی مجھ کملی کی
پڑی آن میں تیرے دَر ڈھولا
زین شکیل