چپ رہ کر بھی یار پکارا جا سکتا ہے
ان آنکھوں میں چاند اتارا جا سکتا ہے
ساری لہریں تیرے صدقے دے سکتا ہوں
سارا دریا تجھ پر وارا جا سکتا ہے
پھر تم سے ہی ایک محبت ہو سکتی ہے
پھر سے تم کو جیت کے ہارا جا سکتا ہے
تجھ کو تکنے اور تجھے تکتے رہنے سے
آنکھوں سے اس بار نظارا جا سکتا ہے
اس کے عارض دیکھ کے میں نے اکثر سوچا
مکھ چندا کا اور نکھارا جا سکتا ہے
اشکوں میں موجود مسافر شاید تجھ کو
آنکھوں کے اُس پار اتارا جا سکتا ہے
تو بچھڑا ہے اور میں اتنا ہی سمجھا ہوں
اب تیرے بن وقت گزارا جا سکتا ہے
زین شکیل